امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ میں اپنے اتحادیوں پر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کے حوالے سے عائد کرنے والی اپنی مجوزہ محصولات کو منسوخ کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اور NATO کے رہنماؤں نے آرکٹک جزیرے کی سکیورٹی کے حوالے سے مستقبل کے معاہدے کیلئے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اچانک فیصلہ اس وقت سامنے، آیا جب ٹرمپ نے کہا کہ وہ بشمول حق، ملکیت اور قبضہ، گرین لینڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ انہوں کہا کہ وہ اس کیلئے طاقت کا استعمال نہیں کریں گے اور یورپی اتحادیوں سے کہا کہ NATOکو امریکی توسیع کو روکنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
عالمی اقتصادی فورم میں ایک غیر معمولی تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سرد اور کمزور مقام پر واقع علاقے کے لیے درخواست کر رہے ہیں۔ ٹرمپ اکثر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں، جہاں اُنہیں لگتا ہے کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں اور اس کیلئے ماحول سازگار ہے۔ ان کے بیانات کے اثرات بہت بڑے تھے، جو سرد جنگ کے آغاز سے ہی مضبوط اتحاد کو متاثر کر سکتے تھے، جو دنیا کے سب سے مضبوط معاہدوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کسی بھی قیمت پر گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرے گا، کیونکہ واشنگٹن کو روس اور چین سے آرکٹک اوشین کے ارد گرد کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے دنیا کے سب سے بڑے جزیرے کی ضرورت ہے۔
اس دوران ٹرمپ نے ڈنمارک اور NATO کے باقی ملکوں سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں، ساتھ ہی انہوں نے ایک سنگین انتباہ بھی دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے فوری مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔×