October 12, 2025 9:46 PM

printer

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے دیگر رہنما، خطے میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے غزہ امن معاہدے کو قطعی شکل دینے کیلئے کَل مصر میں میٹنگ کریں گے

غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے ایک معاہدے کو قطعی شکل دینے کیلئے کَل، مصر کے شرم الشیخ میں ایک بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد کی جائے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ امید ہے کہ اِس میٹنگ میں 20 سے زیادہ ملکوں کے رہنما شرکت کریں گے جن میں برطانیہ کے وزیر اعظم Keir Starmer اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گترش بھی شامل ہیں۔مصر کی صدارت کے ایک بیان کے مطابق اس کانفرنس کا مقصد، غزہ پٹی میں جنگ کو ختم کرنا، مغربی ایشیا میں امن واستحکام کی کوششوں میں اضافہ کرنا اور علاقائی سلامتی اور استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
خطے میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قیامِ امن کے تصور اور دنیا بھر میں تنازعات کو ختم کرنے کی ان کی کوششوں کی روشنی میں یہ رہنما، یکجا ہوئے ہیں۔ قاہرہ نے کہا ہے کہ یہ کانفرنس غزہ میں جنگ کے خاتمے کے مقصد سے اس معاہدے کو قطعی شکل دینے اور ٹرمپ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے منعقد کی جارہی ہے، جس کا مقصد حماس کو غیرمسلح کرنا اور غزہ پٹی میں ایک نیا حکمراں ادارہ تشکیل دینا ہے۔ البتہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حماس، اس تقریب میں شرکت کرے گا۔ اِس تقریب میں فلسطینی اتھارٹی بھی شرکت نہیں کرے گی۔ یہ کانفرنس اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے ایک معاہدے کے بعد منعقد کی جارہی ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان شرم الشیخ میں تین دن کے شدید مذاکرات کے بعد جمعہ کو عمل میں آگیا ہے۔
ان مذاکرات میں مصر، قطر، ترکیے اور امریکہ نے ثالثی کے فرائض انجام دیئے تھے۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں غزہ سے اسرائیلی فوجیوں کی واپسی، امداد کیلئے پانچ مقامات کو کھولا جانا اور یرغمالوں، نیز قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ معاہدے کے تحت حماس کے پاس سبھی اسرائیلی یرغمالوں کو رہا کرنے کیلئے پیر تک کا وقت ہے جس میں وہ یرغمالی بھی شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس کے علاوہ معاہدے میں 28 ہلاک شدہ یرغمالوں کے جسد خاکی کی واپسی بھی شامل ہے۔
امید ہے کہ اسرائیل کی طرف سے 250 سے زیادہ فلسطینی قیدیوں اور غزہ سے ایک ہزار 700 یرغمالوں کو رہا کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی میں مزید امداد پہنچائے جانے کی بھی امید ہے۔اسرائیل کی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اُس نے غزہ کے کچھ علاقوں سے فوجیوں کو جزوی طور پر واپس بلا لیا ہے اور علاقے میں متفقہ جگہ سے اپنی فوج کو ہٹا لیا ہے۔ اگرچہ کچھ فوجیں غزہ پٹی کے آدھے علاقے میں اب بھی قابض ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیل اور مصر کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ اسرائیل کے پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور غزہ امن سمجھوتے پر دستخط کیے جانے کی تقریب میں شامل ہوں گے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ کا یہ پہلا دورہ ہے۔ یہ دورہ، غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے نفاذ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے بعد ٹرمپ مصر جائیں گے۔ واضح ہو کہ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے اعلان کے بعد مصر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کی ہے۔ سمجھوتے میں حماس گروپ کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔