الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ بھارت، 2032 تک سیمی کنڈکٹر اور چِپ بنانے والے ملکوں کے برابر ہوگا۔ سنگا پور میں Bloomberg نیو اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے جناب ویشنو نے زور دے کر کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو چاہیے کہ وہ جو کچھ شائع کرتے ہیں، اُس کی پوری ذمے داری لیں تاکہ معاشرے میں اعتماد کی سطح مضبوط ہو۔ انہوں نے سوشل میڈیا کے بغیر نگرانی والے اثر کی وجہ سے شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی پر انتہائی تشویش ظاہر کی۔ وزیر موصوف نے اِس بات کا ذکر کیا کہ Deepfakes کے بڑھتے ہوئے دائرے، توڑ مروڑ کر پیش کیے گئے ساز و سامان اور تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی افواہیں، معاشرتی اعتماد کے تانے بانے کو بے حد نقصان پہنچا رہی ہیں۔ جناب ویشنو نے ڈیجیٹل حکمرانی کے تئیں بھارت کے ٹیکنو لیگل اندازِ نظر کو اجاگر کیا، جس میں انہوں نے وضاحت کی کہ ڈاٹا کے تحفظ سے متعلق ایکٹ کو ایک اصولوں پر مبنی قانون کے طور پر وضع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِس طرح کا خاکہ ضروری تھا کیونکہ ٹیکنالوجی، تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور حد سے زیادہ قدیمی قوانین، اختراعات میں رکاوٹ کا سبب ہوسکتے ہیں۔بھارت، اگلے سال اکتوبر میں Bloomberg نیو اکانومی فورم کی میزبانی کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ فورم میں سرمایہ کاروں کو شرکت کی دعوت دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت، آنے والے برسوں میں ایک مضبوط پالیسی نظام، پائیدار سادہ کاری، اچھی ترقی اور انتہائی معتدل افراط پر عمل کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
Site Admin | November 20, 2025 9:43 PM
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ بھارت، 2032 تک سیمی کنڈکٹر اور چِپ بنانے والے ملکوں کے برابر ہوگا