اقوام متحدہ نے ایران پر ایک بار پھر اقتصادی اور فوجی بندشیں عائد کردی ہیں۔ یہ بندشیں 2015 میں نیوکلیائی معاہدے کے تحت 10 سال پہلے ختم کردی گئی تھیں۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے، ایران کی لگاتار نیوکلیائی پیشرفت اور تعاون میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے اِن بندشوں کو لاگو کرنے کی بات کہی ہے۔ جون میں ایران کے نیوکلیائی اور فوجی مقامات پر اسرائیل اور امریکہ کے فضائی حملوں کے بعد ایران کی طرف سے معائنے کی کارروائیوں کو معطل کئے جانے پر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اِن بندشوں کو غیرمنصفانہ اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران نیوکلیائی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا۔البتہ انھوں نے خبردار کیا کہ اِن بندشوں کو دوبارہ عائد کئے جانے سے، بات چیت کا عمل رُک سکتا ہے۔کارروائی سے متعلق مشترکہ جامع منصوبے JCPOA کے مطابق بندشوں میں راحت کے بدلے، ایران کو نیوکلیائی پروگرام محدود کرنا ہوگا۔