January 15, 2026 9:48 PM

printer

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ میں آج ایران میں حکومت مخالف احتجاجوں کے خلاف کی گئی پُرتشدد کارروائی کے بعد کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی ایران کی صورتحال پر ایک بریفنگ کیلئے آج میٹنگ ہوگی۔ ملک گیر سطح پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاج اور حکام کی طرف سے پُرتشدد کارروائی کے بعد حالات اب بھی بے حد کشیدہ ہیں۔ یہ میٹنگ، ایران کی جانب سے رات کے وقت اپنی فضائی حدود کو کچھ دیر کیلئے بند کر دینے کے بعد ہو رہی ہے، جس سے کئی بین الاقوامی ایئر لائنز کو اپنی پروازوں کا راستہ بدلنا پڑا یا اُنھیں منسوخ کرنا پڑا۔ ایران کی شہری ہوا بازی کی اتھارٹی نے آج صبح سویرے اپنی فضائی حدود کو دوبارہ کھول دیا اور ملکی نیز بین الاقوامی خدمات بتدریج بحال ہو رہی ہیں۔ امریکہ میں قائم حقوق انسانی کے ایک گروپ نے اطلاع دی ہے کہ ملک گیر پیمانے پر حکومت مخالف احتجاجوں کے خلاف کی گئی کارروائی میں مرنے والوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔
اِدھر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ احتجاجوں کے خلاف ایران کی کارروائی میں ہونے والی ہلاکتوں کی شدت میں کمی آئی ہے اور یہ کہ وہ یہ مانتے ہیں کہ فی الحال بڑے پیمانے پر سزائے موت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اِس سے قبل صدر ٹرمپ نے مظاہرین سے کہا تھا کہ مدد جلد ہی پہنچنے والی ہے اور اُن کی انتظامیہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی ہلاکتوں کی رپورٹوں کے جواب میں مناسب کارروائی کرے گا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لوگوں کو پھانسی دینے کا تہران کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ پورے ایران میں بے چینی کے سبب انگلینڈ نے تہران کے اپنے سفارت خانے کو بند کر دیا اور اپنے عملے کو واپس بلا لیا، جبکہ بھارت، پولینڈ اور اٹلی نے اپنے باشندوں سے ایران چھوڑنے کو کہا ہے۔
امریکہ کے صدر ٹرمپ نے آج کہا کہ اُن کو اِس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ احتجاج کرنے والوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ رک گیا ہے اور فی الحال سزائے موت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ حالانکہ وہ صورتحال پر اب بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ البتہ انہوں نے فوری فوجی کارروائی کی دھمکی کو واپس لے لیا ہے۔ اِس سے قبل پھانسی کی کارروائیاں جاری رہنے کی صورت میں اُن کی جانب سے سخت کارروائی کی دھمکی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران، احتجاج کرنے والے عرفان سلطانی کو پھانسی دینے کے عمل کو ملتوی کرنے پر مجبور ہوا، جنہیں گرفتاری کے فوراً بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس ارغچی سمیت دیگر اہلکاروں نے پھانسی کی سزا کے ارادے کی نفی کی ہے اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی رپورٹوں کو غلط اطلاعات کہہ کر ردّ کر دیا ہے۔
اِدھر اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے ایران میں بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک ایمرجنسی اجلاس طلب کیا ہے۔ کئی ممبر ملکوں نے بڑے پیمانے پر کی گئی مبینہ ہلاکتوں کی آزاد تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے اور انٹرنیٹ کی فوری بحالی کی تاکید کی ہے۔ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے، گو کہ تہران اور واشنگٹن دونوں ہی جانب سے کشیدگی میں کمی کے اشارے مل رہے ہیں۔
اِدھر احتجاج اور اُسے دبانے کی کارروائی بھی ایران بھر میں جاری ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔