اقوام متحدہ سلامتی کونسل آج وینیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر بات چیت کرنے کیلئے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گا۔ یہ اجلاس اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کولمبیا کی درخواست پر بلایا گیا ہے، جس کی حمایت اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان چین اور روس نے کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے وینیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی، جس کے نتیجے میں صدر Nicolas Maduro کی گرفتاری عمل میں آئی، کو ایک خطرناک مثال قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں اقوام متحدہ کے ترجمان Stephane Dujarric نے کہا کہ سکریٹری جنرل انتونیو گُتریس کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔
سکریٹری جنرل نے وینیزویلا میں ایک جامع بات چیت پر زور دیا ہے، جو مکمل طور پر انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے احترام کے ساتھ کی جائے۔ Nicolas Maduro اس وقت نیویارک میں حراست میں ہیں اور آج منشیات سے متعلق الزامات پر عدالت میں پیشی کے منتظر ہیں۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینیزویلا کی نائب صدر Delcy Rodriguez کو سخت وارننگ دی ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ وینیزویلا کیلئے امریکی منصوبوں میں تعاون نہیں کرتی ہیں، تو اُنہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔×