اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق بھارت میں فی کس آمدنی 2030 تک 4 ہزار ڈالر ہوجائے گی، جس سے بھارت کو Upper-Middle-Income والا ملک بننے میں مدد ملے گی۔ آج جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی موجودہ درجہ بندی کے تحت بھارت، چین اور انڈونیشیا کے برابر آجائے گا۔ بھارت کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت تک پہنچنے میں آزادی کے بعد 60 سال لگے، جبکہ 2014 تک محض 7 برس میں یہ دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا اور اگلے سات برس میں یعنی 2021 تک تین ٹریلین ڈالر پر پہنچ گیا۔ 2025 میں بھارت کی معیشت محض چار برس میں چار ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت اگلے دو برس کے اندر پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت تک پہنچ جائے گا۔ رپورٹ میں اِس بات کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے کہ آزادی کے 62 سال بعد 2009 میں فی کس آمدنی ایک ہزار ڈالر تھی، جو 2019 میں دوگنی ہوکر دو ہزار ڈالر ہوگئی اور 2026 تک اِس کے تین ہزار ڈالر کو تجاوز کرجانے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی میں بھارت کی ترقی مستحکم ہوئی ہے۔ اِس کی حقیقی عالمیGDP نشوونما کی فیصد درجہ بندی 92 سے بڑھ کر 95 پرسنٹائل تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد بھارت دنیا کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہوگیا ہے۔×
Site Admin | January 19, 2026 2:56 PM
اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق بھارت میں فی کس آمدنی 2030 تک 4 ہزار ڈالر ہوجائے گی، جس سے بھارت کو Upper-Middle-Income والا ملک بننے میں مدد ملے گی۔