راجیہ سبھا میں بھی مختلف موضوعات پر ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد ایوانِ بالا کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی گئی۔ اِس دوران، آج متعدد اراکین پارلیمنٹ نے جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے کے مطالبے پر مبنی میمورنڈم لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو پیش کیا۔ لوک سبھا کے 145 اراکین نے آئین کی دفعہ 124، 217 اور 218 کے تحت، جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی قرارداد پر دستخط کئے۔BJP، کانگریس، TDP، جے ڈی یو، JD(S)، جن سینا پارٹی، AGP، شیوسینا (شندے) اور CPM جیسی مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے میمورنڈم پر دستخط کئے۔
اِن میں BJP کے رکن پارلیمنٹ انوراگ سنگھ ٹھاکر، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور NCP شرد چندر پوار گروپ کی سپریاسولے شامل ہیں۔ پارلیمنٹ، جسٹس ورما کی رہائش گاہ سے نقد رقم برآمدگی سے متعلق معاملے کی جانچ کرے گی۔ راجیہ سبھا کی کارروائی کے دوران چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے آج کہا کہ اُنھیں ایوانِ بالا کے پچاس سے زیادہ اراکین کی جانب سے جسٹس یشونت ورما کو ہٹانے سے متعلق دستخط کردہ قرارداد موصول ہوئی ہے۔
اس کے بعد راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی۔
بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ راجیو پرتاپ Rudy نے لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کے ، اُس الزام کو مسترد کردیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایوانِ زیریں میں انہیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ جناب Rudy نے یہ بات پارلیمنٹ کے باہر آکاشوانی نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہی۔
اس سے قبل پارلیمنٹ کے باہر اظہارِ خیال کرتے ہوئے، کانگریس رہنما راہل گاندھی نے الزام عائد کیا تھا کہ وزراء کو ہی ایوان میں بولنے کی اجازت ہے مگر اپوزیشن ممبران کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔