وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور نے دنیا بھر میں دہشت گردی سے لڑنے کیلئے ایک نیا جوش و خروش اور اعتماد پیدا کیا ہے۔ انہوں نے آج ”مَن کی بات“ پروگرام میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ جناب مودی نے آپریشن سندور کے دوران مسلح فوجوں کی طرف سے دکھائی گئی انتہائی جرات اور دِلیری کی ستائش کی۔ انہوں نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بالکل صحیح طریقے پر نشانہ بنانے اور انہیں تہس نہس کردینے کیلئے مسلح افواج کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پورا ملک دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اِسے ختم کرنے کے عزم سے سرشار ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آپریشن سندور محض ایک فوجی مشن نہیں تھا، بلکہ یہ ملک کے عزم اور جرات کی ایک جھلک تھی۔ انہوں نے کہا کہ اِس آپریشن نے پورے ملک کو حب الوطنی کے جذبے سے شرابور کردیا ہے اور پورا ملک ترنگے کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ جناب مودی نے بتایا کہ ملک کے کئی شہروں، گاؤوں اور قصبوں میں بھی ترنگا یاترائیں نکالی گئیں۔ مسلح افواج کا احترام کرنے کیلئے ہزاروں لوگ ترنگا ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے بھارت میں تیار کردہ ہتھیار اور اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی مدد سے مثالی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا، جس سے آتم نربھر بھارت کے عزم کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے ملک کے عوام پر زور دیا کہ وہ اندرونِ ملک تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دیں۔
آج کی ”من کی بات“ کے پروگرام میں، وزیرِ اعظم نے یہ جانکاری بھی دی کہ پہلی بار ایک بس گڑھ چِرولی Katejhari گاؤں پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اِس سے پہلے کوئی بس وہاں نہیں جاسکتی تھی کیونکہ یہ گاؤں ماؤ نوازوں کے تشدد کا شکار تھا۔
وزیرِ اعظم نے اِس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ دانتے واڑہ ضلعے میں دسویں اور بارہویں جماعت کا نتیجہ شاندار رہا ہے۔ جناب مودی نے فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج دانتے واڑہ میں تعلیم کا پرچم لہرا رہا ہے، جبکہ کسی زمانے میں وہاں ماؤ نوازوں کا زور تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گجرات میں شیروں کی تعداد بڑھ کر 891 ہوگئی ہے، جبکہ پانچ سال پہلے وہاں 674 شیر تھے۔
جناب مودی نے اگلے مہینے کی 21 تاریخ کو یوگ کے بین الاقوامی دن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ہم سب کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں یوگ پر عمل کرنے کی یاد دلاتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اِس سال وشاکھاپٹنم میں یوگ کے پروگرام میں شامل ہوں گے۔
جناب مودی نے اپنی تقریر میں حال ہی میں منعقد ہونے والی Rising North East Summit، کاغذ کے ضائع ہونے اور کھیلو انڈیا کھیل کود مقابلوں کا بھی ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہر شخص کو کاغذ کو دوبارہ استعمال کرنے پر غور کرنا چاہیئے اور بھارت کے کئی اسٹارٹ اَپ اِس سلسلے میں شاندار کام کررہے ہیں۔
بہار کے پانچ شہروں میں ہونے والے کھیلو انڈیا مقابلوں کے بارے میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک بھر سے پانچ ہزار سے زیادہ کھلاڑی وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے بہار کے کھیل کے جذبے اور وہاں کے عوام نے، جس جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، اُس کی تعریف کی۔
وزیرِ اعظم نے اِس مہینے کی 20 تاریخ کو شہد کی مکھیوں کا عالمی دن منانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے گیارہ سال کے دوران مکھی پالن کی وجہ سے ملک میں ایک میٹھا انقلاب رونما ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے چھتیس گڑھ کے Korea ضلعے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں کے قبائلی کسان اصلی دیسی شہد تیار کررہے ہیں اور یہ شہد ایک برانڈ نام ”Sonhani“کے نام سے گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس سمیت کئی آن لائن پورٹل سے فروخت کیا جارہا ہے۔ x