آج نئی دلّی کے حیدرآباد ہاؤس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور فلپائن کے صدر Ferdinand R. Marcos Jr. کے درمیان بات چیت ہوئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کی گفتگو کے بعد کئی شعبوں میں سمجھوتوں اور مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے۔
آج صبح راشٹرپتی بھون کے سبزہ زار پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی نے فلپائن کے صدر کا خیر مقدم کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ وہ بھارت کے پانچ روزہ دورے پر آئے ہوئے ہیں۔
گفتگو شروع ہونے سے پہلے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اِس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت سے باہمی شراکت داری مستحکم ہوگی۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ بھارت اور فلپائن کے درمیان گہرے رشتے ہیں، جن کی بنیاد عوام سے عوام کے درمیان رابطوں اور تہذیب و تمدن پر مبنی ہیں۔
بھارت اور فلپائن کے باہمی تعلقات میں اقتصادی پہلو نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ 2023-24 کے درمیان دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ساڑھے تین ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں کے دفاعی سکیورٹی اور بحری تعاون کو توسیع دی گئی ہے۔