June 25, 2025 9:36 AM

printer

آج ’سمویدھان ہَتھّیا دِوس‘ منایا جارہا ہے تاکہ اُن لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران سختیاں جھیلی تھیں اور متاثر ہوئے تھے

آج ’سمویدھان ہتھیا دِوس‘ منایا جارہا ہے۔ یہ اُس دور کی یاد دلاتا ہے، جب 25 جون 1975 کو بھارت کے آئین کو پامال کیا گیا تھا۔ یہ ہر اُس شخص کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بھی دن ہے، جنہوں نے ایمرجنسی کے دوران سختیاں جھیلی تھیں اور اِس سے متاثر ہوئے تھے۔

1975 میں آج ہی کے دن اُس وقت کے صدر فخرالدین علی احمد نے اندرونی خلفشار کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے دفعہ 352 کے تحت ایمرجنسی کا اعلان جاری کیا تھا۔   اِس ایمرجنسی کا اعلان بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی اور عدالتی پیشرفت کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ جس نے سابق وزیراعظم اندراگاندھی کی حکمراں قیادت کی قانونی حیثیت کو ہلاکر رکھ دیاتھا۔ مجلس عاملہ نے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے تھے اور حکومت کے تمام اختیارات مرکز کے کنٹرول میں آگئے تھے۔ اِس اعلانیے کے بعد آئینی شقوں کو منظم طریقے سے معطل کردیاگیاتھا۔ دفعہ 358 کے ذریعے دفعہ 19 کو معطل کیا گیا جس سے تقریر کرنے، اظہار رائے، ایک جگہ جمع ہونے اور تحریک چلانے کی آزادی متاثر ہوئی۔ شہریوں کو اُن کی شکایتوں کے ازالے کیلئے عدالتوں سے رجوع ہونے سے روک دیا گیا، سبھی اخباروں پر سنسر شپ نافذ کردی گئی، یہاں تک کہ قانونی نگراں کار، پریس کونسل آف انڈیا کو ختم کردیا گیا۔

آکاشوانی کے من کی بات کے پروگرام میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہاتھاکہ ایمرجنسی ملک کی تاریخ میں سب سے سیاہ دور تھا، جب اُن لوگوں پر زیادتیاں کی گئیں، جو جمہوریت کی حمایت کر رہے تھے۔

ممتاز صحافی رام بہادر رائے نے، جنہیں ایمرجنسی کے دوران جیل میں بند کردیا گیاتھا، آکاشوانی سے بات کی اور ایمرجنسی کے دوران کی گئیں ظلم و زیادتیوں کے بارے میں بتایا۔

ایمرجنسی کے دوران آئینی ترامیم کے ذریعے عدالتوں کو صدر جمہوریہ کے ایمرجنسی اعلان کرنے فیصلے پر سوالات کرنے سے روک دیا گیا، وزیراعظم کے چناؤ اور عدالتی جانچ سے لوک سبھا کے اسپیکر کو باہر رکھا گیا۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔