May 16, 2025 2:36 PM

printer

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کی مدد اور اِسے شہ دینے میں کئی طرح کا رول ادا کرتا رہا ہے۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو دہشت گردی کی مدد اور اِسے شہ دینے میں کئی طرح کا رول ادا کرتا رہا ہے۔ اِس طرح کا وافر اور پختہ ثبوت موجود ہے جس سے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ اُس کے سیدھے رابطے اور اِس طرح کی تنظیموں کو  مالی امداد فراہم کرنے میں اُس کا رول ثابت ہوتا ہے۔

ایک برطانوی نیوز چینل کے ساتھ انٹر ویو میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف بھی یہ تسلیم کرچکے ہیں کہ پاکستان  تین دہائیوں سے دہشت گرد گروپوں کی مدد کرتا رہا ہے۔ پہلگام میں دہشت گردوں کے حالیہ حملے کے تناظر میں اُن کا یہ   قبول نامہ سامنے آیا ہے جس سے علاقائی استحکام میں پاکستان کے ملوث ہونے کے تعلق سے نئی تشویش پیدا ہوئی ہے۔

پاکستان، دہشت گرد تنظیموں کو اپنی مدد دینے اور اُن کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بننے کی وجہ سے اب دنیا بھر میں آشکارہ ہوچکا ہے، لہٰذا اب اُسے کئی جگہوں پر سفارتی طور پر الگ تھلگ ڈال دیا گیا ہے۔ پچھلے مہینے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد، بھارت نے آپریشن سندور چلایا، جس کے دوران اُس نے پاکستان اور جموں و کشمیر کے، اُس کے قبضے والے علاقوں میں دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں پر زبردست جان لیوا حملے کئے۔ اِن میں بہاول پور اور مُرِدکے میں اہم مقامات شامل ہیں جو لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہوں کے طور پر مشہور ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یہاں تک کہ چین سمیت، پاکستان کے روایتی حریفوں نے اِس جنگ سے خود کو دور رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لشکر طیبہ جیسے دہشت گرد گروپوں کے ساتھ پاکستان کے ملوث ہونے کی چھان بین کی ہے اور اب پاکستان جنوبی ایشیا میں اپنے دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر آشکارہ کرنے کی بھارت کی لگاتار کوششوں سے حافظ سعید اور ذکی الرحمان لکھوی سمیت، پاکستان میں مقیم افراد اور لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ جیسی تنظیمیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد بندشوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ پاکستان میں مقیم افراد اور گروپوں کو، اس فہرست میں شامل کیا جانا اِس معاملے کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے تسلیم کئے جانے کا عکاس ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔