March 10, 2025 2:40 PM

printer

تعلیمی پالیسی اور حد بندی کے معاملے پر شور وغل کے درمیان پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے DMK پر طلباء کے مستقبل کو تباہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

 

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔ اس اجلاس کا دوسرا مرحلہ 4 اپریل تک جاری رہے گا اور اس میں 20 نشستیں ہوں گی۔ اس سے قبل تعلیم کے وزیر دھرمیندر پردھان کی ’پی ایم شری اسکیم‘ پر رائے زنی پر DMK  اور کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ کے احتجاج کے پیش نظر لوک سبھا کی کارروائی 12 بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی تھی۔

وقفہ سوالات کے دوران DMK کے رکن پارلیمنٹ T.Sumathy نے تمل ناڈو کیلئے فنڈ جاری کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے جناب پردھان نے DMK پر الزام لگایا کہ وہ تمل ناڈو کے طلباء کیلئے پرعزم نہیں ہے اور وہ طلباء کے مستقبل کو تباہ کررہی ہے۔

 اسپیکر نے شور وغل کے درمیان وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی اور بعد میں ایوان کی کارروائی 12 بجے تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔

راجیہ سبھا میں کانگریس، TMC، DMK، سماج وادی پارٹی اور دیگر نے فرضی شناختی کارڈ اور دیگر معاملات پر واک آؤٹ کیا۔ ایوان کے رہنما جے پی نڈا نے اپوزیشن پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی بھی معاملے پر بحث کیلئے تیار ہے۔

 

آج DMK نے جنوبی ریاستوں میں حدبندی پر سوال اٹھایا۔ پارلیمنٹ کے باہر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے DMK کے رکن پارلیمنٹ Tiruchi Siva نے یہ مطالبہ کیا کہ غیر منصفانہ طریقہ کار سے بچنے کیلئے اس معاملے پر مناسب صلاح ومشورہ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبادی کی بنیاد پر حد بندی کی گئی تو جنوبی ریاستوں پر اس کا اثر ہوگا۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔