بنگلہ دیش کے عبوری لیڈر محمد یونس نے تشدد سے متاثر ملک میں اقلیتی طبقوں پر حملوں کی مذمت کی ہے اور اِسے سنگین جرم بتایا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے طلباء، جو مظاہروں میں پیش پیش ہیں، سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ تمام ہندوؤں، عیسائیوں اور بدھسٹ کنبوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور اُن کا تحفظ کریں۔ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل Antonio Guterres کے نائب ترجمان فرحان حق نے بھی بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملے کی مذمت کی ہے اور مذہب، نسل یا کسی دیگر امتیازی بنیادوں پر مبنی تشدد کی مخالف کیلئے عالمی تنظیم کے عزم پر زور دیا ہے۔ جناب حق نے تشدد سے متاثر ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں فرقوں کی بازآبادکاری کی مدد کیلئے اقوامِ متحدہ کی جانب سے ہر طرح کی امداد کے عزم کو بھی دوہرایا ہے۔
بنگلہ دیش میں کل مسلسل دوسرے دن اقلیتی ہندو فرقے کے ہزاروں لوگوں نے راجدھانی ڈھاکہ اور شمال مشرقی بندرگاہی شہر Chattagram میں بڑی احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ ڈھاکہ کے مرکزی حصے شاہ باغ میں ریلی کی وجہ سے تین گھنٹے سے زیادہ ٹریفک رک گیا۔ یہ لوگ ملک گیر سطح پر ہونے والی توڑ پھوڑ سے تحفظ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جن میں ان کے گھروں، کاروبار اور مندروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان کے مطالبات میں ان لوگوں کے خلاف تیزی سے مقدمات چلانے کے لیے خصوصی ٹربینول قائم کرنا جنھوں نے اقلیتوں پر مظالم کیے ہیں، اقلیتوں کے لیے پارلیمنٹ کی 10 فیصد نشستیں مختص کرنا اور اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق قانون وضع کرنا شامل ہے۔ ہزاروں مسلم مظاہرین، جن میں طلبا بھی شامل تھے، اقلیتوں کے حق میں ڈھاکہ میں ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے شامل ہوئے۔ x