بھارت نے توانائی کی منتقلی کے اپنے سفر میں مقررہ وقت سے پانچ سال پہلے ہی غیر روایتی ایندھن کے ذرائع سے اپنی تنصیب شدہ بجلی صلاحیت کے 50 فیصد تک پہنچ کر ایک اہم مقام حاصل کیا ہے۔
یہ اہم سنگ میل آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام سے متعلق کارروائی اور پائیدار ترقی کیلئے ملک کے مضبوط عزم کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ ماحولیات کیلئے سازگار توانائی کی طرف بھارت کی منتقلی نہ صرف حقیقی ہے بلکہ اس میں تیزی بھی آ رہی ہے۔ نئی اور قابل تجدید توانائی کے مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے کہا کہ آب و ہوا کی تبدلی کی روک تھام کا حل تلاش کرنے والی دنیا کو بھارت راستہ دکھا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2030 کے ہدف سے پانچ سال قبل ہی 50 فیصد غیر روایتی ذرئع سے ایندھن کی صلاحیت حاصل کرلینا ہر بھارتی کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ جناب جوشی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت بھارت کی ماحولیات کیلئے سازگار توانائی کی منتقلی کو آگے بڑھا رہی ہے اور ایک خود کفیل اور پائیدار مستقبل کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ یہ اہم کامیابی نظریہ ساز پالیسی کی کامیابی، جرات مندانہ عمل آوری نیز مساوی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے تئیں ملک کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ اہم پروگرام جیسے کہ پی۔ایم۔کُسُم، پی۔ایم سوریہ گھر، مفت بجلی یوجنا، سولر پارک کی ترقی اور قومی بادی شمسی ہائبرڈ پالیسی نے اس تبدیلی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ بھارت کی ترقی عالمی تناظر میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ عالمی سطح پر سب سے کم فی کس کاربن اخراج کے باوجود، بھارت اُن چنندہ G-20 ممالک میں شامل ہے جو اپنے قومی سطح پر طے شدہ شراکت NDC کے وعدوں کو پورا کرنے کی راہ پر ہیں یا اس سے بھی آگے جا رہے ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ غیر روایتی ذرائع سے 5O فیصد توانائی کے سنگ میل کو مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرکے، بھارت ماحولیات کے لیے سازگار توانائی کے سب سے آگے نکلنے والے کے طور پر اپنی قیادت کو مزید تقویت فراہم کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری ساتھ ساتھ چل سکتی ہے۔