وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کو تشویش کا ایک ادارہ نامزد کیا جانا چاہئے۔ مذکورہ ادارے کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی 2025 کی سالانہ رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن جانبدارانہ اور سیاسی اغراض پر مبنی جائزہ جاری کرنے کی اپنی روِش جاری رکھے ہوئے ہے۔
مذکورہ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ سال 2024 میں بھارت کے اقلیتوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جناب جیسوال نے کمیشن کی اس طرح کی رپورٹ کے بعد کہا کہ امریکی ادارہ اِکا دُکا واقعات کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے اور بھارت کے متحرک کثیر ثقافتی معاشرے کو غلط ڈھنگ سے پیش کرنے کی لگاتار کوشش کرتا رہا ہے، جس سے مذہبی آزادی کے تئیں حقیقی تشویش کی بجائے ایک دانستہ ایجنڈے کی عکاسی ہوتی ہے۔
ترجمان نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ بھارت 140 کروڑ کی آبادی والا ملک ہے اور یہاں سبھی مذاہب کے لوگ آباد ہیں۔